ہتھیاروں کا غلط استعمال،مشرف کے بیان کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں،امریکہ،سابق صدر کا موقف غیر ذمہ دارانہ ہے،پاکستان
واشنگٹن، لندن ( آن لائن ، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے جن میں کہا گیا ہے پاکستان نے امریکہ سے ملنے والی امداد اور اسلحہ کو ممکنہ طور پر بھارت کے خلاف استعمال کیا ہے۔ سابق صدرجنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملنے والی امداد کے تحت ملنے والے جنگی ساز و سامان کے بھارت کے خلاف استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ انہوں نے کسی کو دھوکہ دیا یا نہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک کے تحفظ کے لیے پاکستانی فوج نے تمام وسائل کو ہر جگہ استعمال کیا ہے۔ گزشتہ روز امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان ایان کیلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کی پالیسی یہی ہے کہ اس کی جانب سے دیا گیا اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال ہر گز نہ کیا جائے اور امریکہ ان الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ایان کیلی نے کہا کہ پرویز مشرف اب ایک عام شہری ہیں اس لیے انہوں نے جو کہا ہے اس کی مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں لیکن امریکہ کی پالیسی کا جہاں تک تعلق ہے وہ واضح ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ اوباما انتظامیہ مشرف کے اس بیان کی تحقیقات کریگی اور نہ ہی ہم امداد کی خلاف ورزی کئے جانے سے متعلق کسی قسم کی خلاف ورزی سے آگاہ ہیں۔ ترجمان سے سوال کیا گیا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے فراہم کئے گئے اسلحے کو بھارتی محاذ پر لے آئے تھے اس پر امریکہ کا کیا موقف ہے ۔ ترجمان نے کہاکہ پرویز مشرف نے اپنے انٹرویو میں بہت کم تفصیل فراہم کی ہے اور ان کے بیان پر تبصرہ کرنے کے لئے مزید معلومات درکار ہوں گی ۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو امریکی حکومت اپنے اسلحے کو طے شدہ مقصد کے بجائے دیگر مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے ہر الزام کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ دریں اثناء پاکستان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لئے مغربی ممالک سے ملنے والے سازوسامان کو صرف دہشت گردوں کے خلاف ہی استعمال کیا جا رہا ہے اور ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق پاکستان کے سابق صدر مشرف کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمش الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے موقع پر جب پاکستانی ریاست دہشت گردوں کے خلاف ایک انتہائی مشکل جنگ لڑ رہی ہے سابق صدر کا ایسا بیان پاکستان کو نقصان پہچانے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ سابق صدر مشرف کا بیان مایوسی کے عالم میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش ہے یہ بیان قطعاً ریاستی پالیسی نہیں ہے۔ دریں اثناء سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان میڈیا کو یا کسی بھی انٹرویو میں نہیں دیا کہ امریکہ سے دہشت گردی کیخلاف ملنے والے امداد کو پاکستان کا دفاع بھارت کے خلاف مضبوط بنانے کیلئے استعمال کیا۔ واشنگٹن میں ڈاکٹر نسیم اشرف سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ جانتا ہے کہ فوج کا ہر یونٹ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے اپنا سامان ساتھ لیکر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے انٹرویو کو تڑوڑ مڑوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ میں ایک ذمہ دار آدمی ہوں اور کبھی بھی غیر ذمہ دارانہ بات نہیں کرتا۔ ڈاکٹر نسیم اشرف سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ الزام تو بھارت پاکستان پر لگایا کرتا تھا کہ امریکی امداد سے پاکستان اپنے آپ کو بھارت کے خلاف دفاعی طور پر مضبوط کر رہا ہے اور میں نے ہمیشہ بھارت کے ان الزامات کا بھر پور دفاع کیا ہے
